الجواب:-مسئولہ صورت میں اگر وہاں کا عرف میں یہ لفظ صریح طلاق کے طور پر استعمال ہونے لگا تو اس سے تین طلاق مغلظہ واقع ہوگی کیونکہ یہ لفظ صریح ہے اور ایک ہی مرتبہ میں تین بولا لہذا تین ہی واقع ہوگی اور اگر ایسا نہ ہو یعنی وہاں کے عرف میں یہ لفظ صریح کے طور پر استعمال نہ ہوتا ہے تو پھر اس سے تین طلاق بائن واقع ہوگی اور اس میں نیت کی حاجت نہیں ہے کیونکہ یہ لفظ کنائی صریح ہے-

📖 وان كان الطلاق ثلاثا في الحرة او ثنتين في الامة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا......(الهندية:٤٧٣/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

📖 واما ضرب الثاني وهو الكنايات لا يقع بها الطلاقا الا بالنية وبدلالة الحال لانها غير موضوعة للطلاق بل تحتمله وغيره فلو بد من التعين او دلالته......(الهنديه: ٣٩١/٢،كتاب الطلاق، زمزم ديوبند)

📖 لو قال اكثر الطلاق او انت طالق مرار اتطلق ثلاثا ان كان مدخولا بها....(شامي: ٥٠٤/٤ كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات