الجواب:-مرض یا کمزوری کی وجہ سے نکلنے والا سفید مادہ ناپاک ہے اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کپڑے پر لگ جائے تو اسے پاک کرنا ضروری ہوتا ہے جس عورت کو کبھی کبھی یہ مرض لاحق ہو وہ وضو کر کے نماز پڑھتی رہے اس پر غسل لازم نہیں ہے اور اگر اس مرض کی اتنی کثرت ہو جائے کہ کسی نماز کا پورا وقت اس طرح گزر جائے کہ فرض نماز بھی پڑھنے کا موقع نہ مل پائے تو پھر یہ عورت معذور کے حکم میں ہو جاتی ہے اب اس کے لیے ایک نماز کے پورے وقت میں ایک مرتبہ وضو کافی ہوگا سفیدی نکلنے سے بار بار اسے وضو کرنا نہ پڑے گا اور ایسی معذور عورت کے حق میں یہ سفید ناپاک بھی نہ سمجھی جائے گی اور یہ حکم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک کہ ہر نماز میں کم از کم ایک مرتبہ یہ عذر پایا جاتا رہے-

📖 قال ابن حجر في شرحه: وهي ماء ابيض متردد بين المذى والعرق يخرج من باطن الفرج الذي لا يجب غسله، بخلاف ما يخرج مما يجب غسله فإنه طاهر قطعا، ومن وراء باطن الفرج، فإنه نجس قطعا ككل خارج من الباطن كالماء الخارج مع الولد او قبيله(شامي: ٥١٥/١،كتاب الطهارة)

📖 وصاحب عذر من به سلسل بول لا يمكنه امساكه الخ او استحاضه ان استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضا ويصلى فيه خاليا عن الحدث ولو حكما ولو مرة وفي حق الزوال يشترط استيعاب الانقطاع تمام الوقت وحكمه الوضوء لكل فرض(تنوير الابصار معالدر المختار:٤٣٧/١-٤٣٨،بيروت:٥٠٤/١-٥٠٥،زكريا ديوبند)

📖 صاحب عذر من به سلسل بول او استطلاق بطن او انفلات ريح او استحاضة.... ان استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة ولو حكما وحكمه الوضوء لكل فرض، ثم يصلى به فيه فرضا ونفلا ،فاذا خرج الوقت باطل(الدر المختار مع رد المختار مطلب في احكام المعذور: ٣٠٥/١،كراچی)

مزید متعلقہ سوالات