جواب:-زکوۃ عبادت محض ہے اور نابالغ بچہ عبادت محضہ کا مخاطب نہیں ہے لہذا نہ بڑی بچہ پر زکوۃ والد نہیں ہے۔
📖 قوله عقله والبلوغ فلا تجب على المجنون والصبي لانها عباده محضة وليس مخاطبه بها وايجاب النفقات والغرامات لكونها من حقوق العباد...(رد المختار مع شامي: ١٧٣/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)
📖 ومنها البلوغ عندنا فلا تجبوا على الصبي وهو قول على وابن عباس فانها قال لا تجب للزكاة على الصبي حتى تجب عليه الصلاة (بدائع الصنائع :٧٩/٢ كتاب الزكاة اشرفىه ديوبند)
📖 قوله مكلف البالغ عاقل فلا سكتوا على الصبي وقال المؤلف في الحاشية..(حاشية الطحطاوي:٧١٤ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟