الجواب:-میں نے تجھ کو جواب دیا اس کو لفظ کنائی شمار کیا ہے لہذا اس کی رو سے تو صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوگی اگر ایک کی نیت کرے اور اگر اس سے زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی لیکن بعض علاقوں میں یہ لفظ صریح طلاق کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے اس کی رو سے صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت نہ کرے اور اگر زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی لہذا اس لفظ سے ہر جگہ کا حکم الگ الگ ہوگا اور عرف کے اعتبار سے۔

📖 فالصريح قوله انت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لان هذه الالفاظ تستعمل في الطلاق ولا يستعمل في غيره ولا يفتفر الى النية لانه صريح فيه.....(هدايه: ٣٨٠/٢-٣٨١،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

📖 كنايته عند الفقهاء مالم يوضع له اي الطلاق واحتمله وغيره.... فلا تطلق بها الا بنية او الالة الحال.... البائن ان نواها او الثنتين..... وثلاث ان نواه.....(الدر المختار مع الشامي: ٥٢٦/٤-٥٣٦،كتاب الطلاق،زكريا ديوبند)

📖 والاصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية انه اذا كان فيها لفظ لا يستعمل الا في الطلاق فذلك الفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية اذا اضيف الى المراة.....(هنديه: ٣٨٩/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات