الجواب:-میں نے تجھ کو چھوڑ دیا کہنے کی صورت میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی کیونکہ یہ لفظ اکثر جگہوں میں الفاظ صریح کے لیے مستعمل ہوتا ہے لہذا اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی البتہ اگر کسی جگہ یہ لفظ کنائی میں مستعمل ہو تو پھر ایک طلاق بائن واقع ہوگی اگر ایک کی نیت کرے اور اگر زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی اصل حکم ان الفاظ میں عرف کا ہے جہاں کا عرف جیسا ہوگا وہاں ویسا ہی حکم ہوگا-”فقط واللہ اعلم

📖 وفي انت الطلاق او انت طالق الطلاق او انت طالق طلاقا يقع واحدة رجعية ان لم ينوى شيئا او نوى واحة او ثنتين لانه صريح مصدر لا يحتمل العدد.....(الدر المختار مع الشامي: ٤٦٣/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

📖 قوله فارقتك يحتمل المفارقة عن النكاح ويحتمل المفارقة عن المكان... وعن الصداقة.....(بدائع الصناعية:١٦٨/٣-١٧٠،كتاب الطلاق، اشرفية)

📖 وبقية الكنايات اذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة وانما ثلاثا كان ثلاثا.... وهذا مثل قوله انت بائن وبنة..... وفارقتك لانها تحتمل الطلاق وغيره فلا بد من النية.....(هدايه: ٣٩١/٢-٣٩٢،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات