الجواب:-اگر کوئی شخص اپنے بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دے تو اس سے ہر حال طلاق واقع ہو جاتی ہے خواہ نیت کرے یا نہ کرے اور جتنی مرتبہ کلمہ طلاق کو دہرائے گا اتنی طلاق واقع ہوگی لہذا مسئولہ صورت میں تین طلاق مغلظہ واقع ہوگی بشرطے کے بیوی مدخول بہا یا اس کے ساتھ خلوت صحیحہ ہو چکی ہو کیونکہ یہ لفظ صریح ہے اور اسے تین مرتبہ دہرایا گیا ہے اور شوہر کی بات معتبر نہیں ہوگی اور شرعا وہ بیوی ان پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے اب ان دونوں کے لیے بغیر حلالہ شرعی کے ایک ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا قطعا جائز نہیں ہے-

📖 فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره......الخ( سورة البقرة: رقم الاية:٢٣)

📖 وان الطلاق ثلاثا في الحرة.... تقع الثلث.... لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم لطلقها او عوت عنها.....(الهندية:٤٧٢/١،كتاب الطلاق ،زكريا ديوبند)

📖 لو قال اكثر الطلاق او انت طالق مراة في البحر عن الجوهرة: لو قال انت طالق مرارا اتطلق ثلاثا ان كان مدخولا بها......(الدر المختار مع الشامي: ٥٠٤/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات