جواب:-اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں ممنوعات احرام میں سے کسی ممنوع چیز کو بھول کر کرے تو وہ شرعا اس پر کوئی چیز نہیں ہوتا اور اگر ممنوعات حرام میں سے کسی چیز کا مکمل ارتکاب کرے بلا کسی عذر کے تو اس صورت میں ایک دم واجب ہوتا ہے اور اگر کسی ممنوع چیز مکمل طور پر نہ کرے بلکہ ناقص کرے تو اس صورت میں جزاء کے طور پر صدقہ واجب ہو جاتا ہے-فقط واللہ عالم۔

📖 وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَٰكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا(سوره احزاب:٥)

📖 ولو طيب المحرم بعد الشارب او بعض اللحية كان عليه صدقة ولو طيب ولو طيب عضوا كاملا كلراس..... عليه دم(قاضيخان:١٧٦/٧ كتاب الحج، زكريا ديوبند)

📖 جزاوي جنايات اما دم حتما اذا ارتكب المحظور كاملا بلا عذر او صدقه حتما اذا ارتكب المحظور ناقصا (غنية الناسك:٢٣٨)

مزید متعلقہ سوالات