جواب:-صورت مسئلہ میں قرآن و حدیث میں اس کا وبال زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کے لیے بہت وعیدیں آئی ہے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے یعنی جو لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں تو ان کے مال کو جہنم کی اگ میں گرم کر کے اس سے اس کی پیشانیوں پہلوؤں اور پٹھوں کو داغا جائے گا دوسری جگہ ارشاد ہے یعنی ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا مسلم شریف میں ہے یعنی ایسی شخص کے لیے اگ کی چٹائی بچھائی جائے گی اور اس سے ایسے شخص کے پہلو پیشانی اور سینہ کو داغا جائے گا۔فقط واللہ اعلم

📖 والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله.... الآية (سورة التوبه: رقم الآية:٣٤-٣٥)

📖 سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة.. الآخ (سورة ال عمران: رقم الآية:١٨٠)

📖 قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من صاحب ذهب ولا فضة ولا يودي منها حقها الا اذا كان يوم القيامة صفحت له ضياع من نار فاحمي عليها في نار جهنم ويكوي بها جنبه وجبينه و ظهره....(مسلم شريف: ٦٨٠/٢ كتاب الزكاة باب اثم مانع الزكاة)

مزید متعلقہ سوالات