جواب:-احرام کے لغوی معنی ہے حرام کرنا، کیونکہ احرام کی حالت میں بعض حلال کام بھی حرام ہو جاتے ہیں اصطلاح میں حد یا عمرہ کی نیت سے مکہ شہر میں مقام میقات سے پہلے صرف دو چادروں سے جسم کو ڈھانپ لینے کو احرام کہتے ہیں،اور احرام باندھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ناخن تراش بغل اور ناف کے نیچے کے بال صاف کر لیں بلکہ پیچھے کے بال بھی صاف کر لیں مسواک کرے،خوب اچھی طرح مل کر غسل کر لے جس اور احرام کے چادروں پر خوشبو لگائے پھر مرد سلا ہوا کپڑا اتار کر بغیر سلائی ہوئی ایک چادر بند ناف کے اوپر سے باندھے اور ایک چادر کندھوں سے ووٹ لیں سر ننگا رکھے اور دونوں بازوں ڈھانپ لے خواتین اپنے کپڑوں میں ہی احرام کی نیت کرے البتہ خواتین ایک چادر اپنے ہاتھ سے سر کے اوپر تھوڑا اگے رکھیں اور چہرے میں نہ لگے تاکہ پردہ کی طرح کام کرے،اور احرام کی کپڑوں میں گاڑی خوشبو نہ لگائے جس سے اس کا اثر بعد تک باقی رہے۔فقط واللہ اعلم

📖 الاحرام شرعا: الدخول في حرمات مقصوصه أي التنرامها غير انه لا يلتحق الشرعا الا بالنيه مع الذكر والمراد بالذكر التلبية ونحوها (شامي: ٤٨٥/٣, مكتبة زكريا ديوبند)

📖 وهو لغة مصدر احرم اذا ادخل في حرمة ورجل حرام اي: محرما كذا في الصحاح وشرعا : الدخول في حرمة مقصوصة اي الآخر (حاشيه ابن عابدين: ٥٥٥/٣ مكتب اشرفيه ديوبند)

📖 واما الثوب فلا يجوز ان يتطيب بما تبقي عينه بعد الحرام الأخ والاولى ان لا تطيب ثوبه (غن ية المناسك :٧٠)

مزید متعلقہ سوالات