الجواب:-الفاظ کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں (1) صریح(2) کنائی-صریح وہ ہے جو صریح الفاظ سے دی جائے اور صریح الفاظ وہ ہے جو اکثر وہ بیشتر طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں خواہ وہ کسی بھی زبان کے ہو مثلا عربی زبان میں طلاق وغیرہ اور اردو زبان میں چھوڑنا آزاد کرنا ۔کنائی طلاق وہ ہے جو کنائی الفاظ سے دی جائے جن کا استعمال طلاق اور غیر طلاق سب کے لیے ہوتا ہو مثلا عربی زبان میں اعتدی اور اردو زبان میں گھر سے چلی جا وغیرہ۔حکم صریح الفاظ سے وفوع طلاق کے لیے تین کی حاجت نہیں ہے البتہ شرط یہ ہے کہ وہ بیوی کے ارادہ سے کہے گئی ہو اگر تاکید وغیرہ سے خالی ہو تو طلاق رجعی واقع ہو گی اور اگر تاکید کے ساتھ کہے ہو تو اس سے طلاق بائن واقع ہوگی اور کنائی الفاظ سے واقع طلاق کے لیے نیت بہرحال ضروری ہے اور اس سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے البتہ قضاء مذاکرہ طلاق کی صورت میں نیت کے بغیر ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔

📖 الطلاق الصريح: هو يطلق زوجته بلفظ لم يستعما الافي الطلاق.... والطلاق بالكناية: هو ما كان بلفظ لم يوضع له واحتمله هو غيره....(التعريفات الفقهية:٢١٢،باب الطاء،اشرفيه ديوبند)

📖 الطلاق اي الفاظ بوقع بها الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله انت طالق ومطلقة...........(هدايه: ٣٨٠/٢-٣٩١،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

📖 صريحه ما لم يستعمل الا فيه ولو بالفارسية تطلقتك وانت طالق..... يقع بها واحدة رجعية.... وكنايته.......(الدر المختار مع الشامي: ٤٥٧/٤-٥٢٨،كتاب الطلاق ،زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات