الجواب:-اگر امام نے رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کر لی اور مقتدیوں نے نہیں کی تو اس میں اختلاف ہو گیا اکثر علماء اور اہل فتاوی کی رائے یہ ہے کہ امام کے سلام کے بعد مقتدی آیت سجدہ کا سجدہ کرے پھر قعدہ آخرہ کر کے سلام پھیرے ورنہ مقتدی کی نماز فاسد ہو جائے گی، دوسری رائے یہ ہے کہ امام کی نیت مقتدی کی نیت کے لیے بھی کافی ہو جائے گی اسی کو احسن الفتاوی نے راجح کہا ہے امت کے لیے اسی قول کو اپنانے میں آسانی ہے لیکن اس کی تائید زیادہ نہیں ملتی ہے اس لیے امام کو رکوع کے بجائے سجدہ میں نیت کر لینی چاہیے اور اس صورت میں مقتدی سجدہ کرے یا نہ کرے کسی کی نماز میں کوئی خرابی نہیں آئے گی-

📖 في الشامية: و اختلفوا في النية الإمام كافية كما في الكافي فلو لم ينوي المقتدي لا ينوب على راي فيسجد بعد سلام الإمام وبعد القعدة الاخيرة كما في النية (الى قوله) والاولى أن يحمل على القول بأن نية الإمام لا تنوب عن نية المقتدي والمتبادر من كلام المهستانى السابق أنه خلاف الاصح حيث قال على رأي فتامل(شامي: ٥٨٧/٢،زكريا ديوبند)

📖 ونؤدي بركوع صلاة إذا كان الركوع على الفور من قرا اية أو ايتين وكذا ثلاث على الظاهر كما في البحر إن نواه اي كون الركوع لسجود التلاوة على الراجح ونؤدي بسجودها كذلك أي على الفور وان لم ينو بالاجماع ولو نواها في ركوعه ولم ينوها المؤتم لم يجز ويسجد إذا سلم الإمام ويعيد القعدة ولو تركها فسدت صلاته(سامي: ٥٨٧/٢،زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات