الجواب :-ایک ڈاکٹر دوسرے ڈاکٹر کے پاس مریض بھیجنے کی وجہ سے کمیشن لینا یہ جائز نہیں ہے بلکہ یہ رشوت اور باطل طریقہ سے مال حاصل کرنے میں شامل ہے جس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے اگر کمیشن دینے والے اسے ہدیہ کہتے ہیں لیکن یہ ہدیہ کے نام پر رشوت ہے لہذا عمومی ضرر کی سدباب کے طور پر یہ عمل نا جائز ہوگا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بعض عاملین نے حساب پیش کیا کہ یہ اصول شدہ زکوۃ ہے اور یہ ہمارا ہدیہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ اپنی ماں کے گھر میں بیٹھ کر دیکھے کہ کیا اس کو ہدیہ ملتا ہے-

📖 لا يجوز للطبيب أن يقبل الهدايا من شركات الا دوية لأن ذالك رشوة محرمة ولو سميت لهدية أو غير ذلك من الأسماء لاتغير الحقائق (فتاوى للجنة دائمة:٥٧١/٢٣+

📖 يا ايها الذين امنوا لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل(سوره النساء: ٢٩)

📖 عن أبي حميد الساعدي قال: استعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا على صدقات بني سليم يدعى ابن اللثية فلما جاء حاسبه قال هذا مالكم وهذا هدية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فهلا جلست في بيت ابيك وامك حتى تاتيك هديتك ان كنت صادقًا (بخاري شريف:٣٣/٢، رقم الحديث:٦٧١٠)

مزید متعلقہ سوالات