الجواب و باللہ التوفیق:-قعدہ اولی میں التحیات کی جگہ سورہ فاتحہ پڑھ لی اور کھڑا ہو گیا تو التحیات کو چھوڑ نے کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوگا اور قعدہ میں یاد آیا پھر التحیات کو لوٹا لیا تب بھی سجدہ سہو واجب ہوگا تاخیر واجب کی وجہ سے اور قعدہ اخیرہ میں فاتحہ پڑھنے کے بعد التحیات پڑھی تو بھی تاخیر واجب کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگا اور اگر قعدہ اخیرہ میں التحیات پڑھنے کے بعد فاتحہ پڑھے تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا کیونکہ قعدہ اخیرہ میں التحیات کے بعد دعا کا محل ہونے کی وجہ سے گنجائش ہے-

📖 واذا قرا الفاتحه مكان التشهد فعليه السهو وكذلك اذا قرا الفاتحه ثم التشهد كان عليه السهو كذا روي عن ابي حنيفة في الواقعات الناطفية وذكر هناك إذا بدا في موضع التشهد بالقراءة ثم تشهد فعليه السهو(هندية:١٢٧/١،حاشية الطحطاوي:ص:٤٦١،باب سجود السهو)

مزید متعلقہ سوالات