جواب:-ہر انسان کی ضروریات اور حاجت عموما دوسروں سے مختلف ہوتی ہے لہذا جو چیزیں جن کے استعمال میں ہو اور انسان کو اس کے استعمال کی حاجت پیش اتی ہو اور وہ اشیاء تجارت کے لیے نہ ہو تو وہ تمام چیزیں حاجت اصلی میں داخل ہیں مثلا کھانا پینا پہننے کے کپڑے رہنے کے مکان وغیرہ اور جو چیزیں انسان کے استعمال میں نہ اتی ہو وہ حاجت اصلی میں داخل نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

📖 ومنها: كون المال فاضلا عن الحاجة الاصلية لان به يتحقق الينا الآخ ..(بدائع الصنائع:٩١/٢ كتاب الزكاة الشرفيه ديوبند)

📖 الاصلي واما المستفاد في اثناء الحول فيضم الى مجانسه ويزكي بتمام الحول الاصلي سواء استفيد بتجارة(حاشية الطحطاوي:٧١٥, كتاب الزكاة اشرفيه،ديوبند)

📖 وليس في دور السكنى وثياب البدن واتات منازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة والسلاح الاستعمال الاخر...(هدايه :٢٠٢/١،كتاب الزكاة ،زمزم،ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات