الجواب و باللہ التوفیق:-فرض نماز کی جماعت میں صفوں کو سیدھی کرنا واجب ہے صفوں کو تیڑھی تیڑھی کرنا حدیث کی مخالفت کرنا ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی صفوں کو سیدھی رکھو کیونکہ صفوں کو سیدھا کرنا یہ بھی نماز کا حصہ ہے لہذا صفوں کو تیڑھا کرنا نماز میں کراہت کا سبب بنے گا اسی طرح درمیانی صف میں میز رکھ کر کے کرسی پر بیٹھ کر کے نماز پڑھنے والا شخص اس کی وجہ سے بھی صفوں میں تیڑھی لازم آتی ہے لہذا اس کو صف سے ہٹ کر کونے میں نماز پڑھنا بہتر ہے البتہ اگر صف میں جگہ خالی رہنے کا خطرہ ہو تو پھر درمیان میں کرسی رکھ کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے-

📖 قال النبي صلى الله عليه وسلم سووا صفوفكم فان تسوية الصف من تمام الصلاة (مسلم شريف: 182/1،بيت الامكار،رقم: 433)

📖 ذهب بعض العلماء منهم ابن حجز وبعض المحدثين الى وجوب تسوية الصفوف؛ لقوله صلى الله عليه وسلم "لتسون صفوفكم أو ليخالفن الله بين وجوهكم" فان ورود هذا الوعيد دليل على وجوب التسوية(الموسوعة:36/27)

📖 ليخالفن الله بين وجوهكم: وفيه من اللطائف وقوع الوعيد من جنس الجنابة وهي المخالفة وعلى هذا فهو واجب (فتح الباري: 242/2،بيروت:264/2،اشرفية ديوبند) والافضل أن يقف في الصف الآخر إذا خاف ايذاء أحد (شامي: 310/2،زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات