جواب:- حیلہ تملیک کی کئی صورتیں ہیں اور ان میں سے چند یہ ہے کہ (1). فقیر کو زکوۃ کے مال کا بالکلہ مالک بنا دیا جائے پھر اس سے کہا جائے کہ فلاں جگہ پر خرچ کی ضرورت ہے تم اپنی طرف سے وہاں خرچ کر دو تو اگر وہ برضا و رغبت اس جگہ کا خرچ کر دے تو اس عمل کا اسے ثواب ملے گا اور زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی۔(2). فقیر سے کہا جائے کہ تم اپنی طور پر قرض لے کر فلاں ضرورت میں قرض کر دو اور خرچ کے بعد فقیر کے قرض کی ادائیگی زکوۃ کے رقم سے کر دی جائے تو ایسی صورت میں بلا شبہ زکوۃ ادا ہو جائے گی (3). مدرسہ کا جتنا ماہنا خرچ بشمول مد تعلیم و تنخواہ مدرسین اتا ہو اس کو طلبہ کی تعداد پر تقسیم کر دے تو جو حاصل ائے اتنی رقم پر طالب علم پر بطور فیس مقرر کر دی جائے اور ہر مہینے فیس کے بقدر رقم بطور وظیفہ طلب علم کو دے کر اس سے بطور فیس لے لی جائے توفیق کی شکل میں جو رقم واپس ائے گی اس کو مدرسے کی ہر طرح کی ضرورت میں خرچ کرنا جائز رہے گا.

📖 والحيلة لمن اراد ذلك ان يتصدق ينوي الزكاة على فقير ثم يامر بعد ذلك بالصرف الى هذه الاجوه فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب هذا الصرف...(تاتارخانية:٢٠٨/٣،كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

📖 والدفع الى من عليه الدين اولى من دفع الى فقير....(الهنديه: ٢٥٠/١ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

📖 وفي جامع الفتوى: لا يسعه ذلك وكل حيلة يحتال بها الوجل ليتخلص بها عن حرام او ليتوصل بها الى حلال فهي حسنة.....(تاتارخانية:٣٠١/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات