سوال:-حق تعالی کا مطلب کیا ہے اور اس کے خرید و فروخت کا شرعا کیا حکم ہے اگر اس میں کوئی اختلاف ہو تو راجح قول کی وضاحت کریں؟
الجواب:-اوپری منزل کے لوگوں کو اپنی تحتانی منزل کے چھت پر اپنے مکان کو قائم رکھنے کا جو مستقل حق حاصل ہے اسی کو حق تعلی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور حق تعلی یعنی فضا کے خرید و فروخت کے سلسلے میں اختلاف ہے ان میں سے راجح اور صحیح قول یہ ہے کہ فقہاء کرام نے اس کو مال نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بیع کو ناجائز لکھا ہے اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے بھی اسی کی صراحت فرمائی ہے-
📖 والمعدوم كبيع حق التعلي اي علو سقط لانه معدم قال في الفتح واذا كان السفل لرجل وعلوه لاخر فاسقطا او سقط العلو وحده فباع صاحب العلو علوه لم يجز لان المبيع حينئذ ليس الا حق التعلي وحق التعلي ليس بمال لان المال عين يمكن احرازها وامساكها....(الدر المختار مع الشامي: ٢٣٦/٧-٢٣٧،كتاب البيوع،زكريا ديوبند)
📖 قال واذا كان السفل لرجل وعلوه لاخر فسقطا او سقط العلو وحده فباع صاحب العلو علوه لم يجز لان حق التعلي ليس بمال....(الهداية:١٠٧/٥،كتاب البيوع، مكتبة البشري باكستان)
📖 بطل بيع ما ليس بما والمال ما يميل اليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع....(الدر المختار مع الشامي: ٢٣٥/٧،كتاب البيوع،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟