باسمہ سبحانہ و تعالٰی الجواب وبالله التوفيق: اگر کسی کے حق کو ساقط کرنے یا کسی ناحق کو حق دلانے کے لیے حیلہ اختیار کیا جائے تو ایسا حیلہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے البتہ کسی شدید ضرورت کے دفعیہ کےلیے حیلہ اختیار کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے، باقی اس سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ متعلقہ جزوی مسئلہ اور در پیش صورت حال بیان کر کے مسئلہ معلوم کیا جائے…

📖 ﺃﻥ ﻛﻞ ﺣﻴﻠﺔ ﻳﺤﺘﺎﻝ ﺑﻬﺎ اﻟﺮﺟﻞ ﻹﺑﻄﺎﻝ ﺣﻖ اﻟﻐﻴﺮ ﺃﻭ ﻹﺩﺧﺎﻝ ﺷﺒﻬﺔ ﻓﻴﻪ ﺃﻭ ﻟﺘﻤﻮﻳﻪ ﺑﺎﻃﻞ ﻓﻬﻲ ﻣﻜﺮﻭﻫﺔ (ھندیہ قدیم ٣٩٠/٦)

📖 وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب... قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير...وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مالا (شامی زکریا:٢٠٨/٣)

مزید متعلقہ سوالات