لجواب وبالله التوفیق- واضح رہے کہ لائف انشورنس کے مقابلے میں املاک کے انشورنس میں سود بالکل نہیں ہوتا اس لیے کہ جمع کی جانے والی رقم میں سے کوئی رقم مدت پر واپس نہیں ملتی ہے، اور نہ ہی اس پر اضافہ ملتا ہے، البتہ صرف شبہ قمار ہے کہ اگر خدانخواستہ ہلاک ہو جائے گا تو پورے نقصان کی تلافی کی جاتی ہے، اور عموم بلویٰ اور حالات کے تقاضے کی وجہ سے شبہِ قمار کی خرابی برداشت کر کے اموال کے بیما کی گنجائش قرار دی گیٔ ہے فقط – والله أعلم باالصواب(فتاویٰ قاسمیہ ٤٧٢/٢٠)

📖 حدیث شریف میں ہے- عن جابررضى الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا،و مؤكله، و كاتبه، وشاهديه، وقال هم سواء(صحیح مسلم٢٧/٢) (کذا فی سنن أبی داؤد٤٧٣/٢)

مزید متعلقہ سوالات