جواب:-مال مستفاد وہ مال ہے جو دوران سال نصاب سے زائد حاصل ہو اور اس کے تین صورتیں ہیں(1). نصاب پہلے سے موجود ہو پھر دوران سال اسی نصاب سے دوسرا عمل حاصل ہو تو بالاتفاق ان میں حولان حول شرط نہیں ہے بلکہ سابقہ مال کے ساتھ زکوۃ نکالی جائے گی۔(2). پہلے نصاب موجود ہو پھر دوران سال میں خلاف جنس مال حاصل ہو تو بالاتفاق ان کے لیے حولان حول شرط ہے۔(3) پہلے نصاب موجود ہو پھر اس کا ہم جنس مال حاصل ہو مثلا وراثت ہبہ وغیرہ اس میں اختلاف ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کیا نزدیک ان میں حولان حول شرط نہیں ہے بلکہ سابقہ مال کے ساتھ اس کا حساب کیا جائے اور زکوۃ دی جائے امام شافعی رحمہ اللہ وہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مستقل حولان حول شرط ہے امام مالک رحمہ اللہ سوائم میں حنفہہ کے ساتھ اور دوسرے مال میں شوافیہ کے ساتھ ہے

📖 قال ومن كان له نصاب فاستفاد في اثناء الحول من جنسي ضمه اليه وذكرة به وقال الشافعي: لا يضم لانه اصل في حق المالك..(هدايه: ٢٠٩/٢, كتاب الزكاة زمزم بوك ديوبند)

📖 ويضم مستفاد من جنس نصاب اليه في حوله وحكمة ونقصان النصاب في اثناء الحول لا يضر....(مجمع الانهر:٣٠٧/١ مكتبة فقيه الامة ديوبند

مزید متعلقہ سوالات