جواب:-زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک شرط ہے اور زکوۃ کے مصارف بھی متعین ہیں لہذا جن مدارس اور مکاتب میں زکوۃ کے مصارف نہ ہو تو اس کے لیے زکوۃ فطرہ وغیرہ وصول کرنا جائز نہیں ہے اس طرح کی رقومات مساجد وغیرہ کے کسی کام میں بھی لگانا درست نہیں ہے اور جن مدارس و مکاتب میں زکوۃ کے مصارف ہو تو پھر ان کے لیے زکوۃ وغیرہ کا مال لینا درست ہے۔فقط واللہ اعلم

📖 ويشترط ان يكون الصرف تمليكا لا اباحة كما مره لا يصرف الى بناء نحو مسجد ولا الى كفن ميت وقضاء الدين واما الدين...(رد المختار: ٢٩١/٣،كتاب الزكاة، باب المصرف،زكريا ديوبند)

📖 ولا يجوز ان يبني بالزكاة المسجد،و كذا القناطر والسقات والاصلاح الطرقات وكري الانهار.....(الهنديه: ٢٥٠/١ كتاب الزكاة، زكريا ديوبند)

📖 مصرف الزكاة وفقير وهو من له ادنى شيء ومسكين ..... وعامل فيعطي بقدر عمله...(در المختار مع شامي:٢٨٣/٣-٢٩٠ كتاب الزكاة زكريا ديوبند

مزید متعلقہ سوالات