جواب:-زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک شرط ہے اور زکوۃ کے مصارف بھی متعین ہیں لہذا جن مدارس اور مکاتب میں زکوۃ کے مصارف نہ ہو تو اس کے لیے زکوۃ فطرہ وغیرہ وصول کرنا جائز نہیں ہے اس طرح کی رقومات مساجد وغیرہ کے کسی کام میں بھی لگانا درست نہیں ہے اور جن مدارس و مکاتب میں زکوۃ کے مصارف ہو تو پھر ان کے لیے زکوۃ وغیرہ کا مال لینا درست ہے۔فقط واللہ اعلم
📖 ويشترط ان يكون الصرف تمليكا لا اباحة كما مره لا يصرف الى بناء نحو مسجد ولا الى كفن ميت وقضاء الدين واما الدين...(رد المختار: ٢٩١/٣،كتاب الزكاة، باب المصرف،زكريا ديوبند)
📖 ولا يجوز ان يبني بالزكاة المسجد،و كذا القناطر والسقات والاصلاح الطرقات وكري الانهار.....(الهنديه: ٢٥٠/١ كتاب الزكاة، زكريا ديوبند)
📖 مصرف الزكاة وفقير وهو من له ادنى شيء ومسكين ..... وعامل فيعطي بقدر عمله...(در المختار مع شامي:٢٨٣/٣-٢٩٠ كتاب الزكاة زكريا ديوبند
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟