الجواب:-مسافر شرعی پر جمعہ فرض نہیں ہے خواہ وہ کسی شہر میں اتنی دیر کے لیے ٹہرا ہو جتنی دیر میں آسانی سے جمعہ پڑھ سکتا ہے البتہ جمعہ پڑھنا مسافر کے لیے فرض نہیں ہے اگرچہ جمعہ پڑھنے کی فرصت اچھی طرح میسر ہو جائے تو افضل ہے-
📖 حتى لا تجب الجمعة على العبيد والنسوان والمسافرين والمريضى كذا في محيط السرخسي(الهندية:٢٠٥/١)
📖 ومن لا جمعه عليه ان اداها جاز من فرض الوقت لانهم تحملون....(حاشية الطحطاوي على المراقي الفلاح:٣٣٢/١)
📖 والدليل على أنه لا جمعه على هؤلاء ما روى عن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فعليه الجمعة إلا مسافرا او مملوكا او صبيا او امرأة او مريضا.(بدائع الصنائع:٥٨٢/١)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟