الجواب وباللہ التوفیق مسجد کی وقف اشیاء خواہ وہ پرانی ہی کیوں نہ ہوں مسجد کی مملوکہ ہیں، ان کو ضائع کرنا صحیح نہیں ہے، ان پرانی اشیاء کو بیچ کر رقم مسجد ہی کے استعمال میں لانا چاہیے، وقف اشیاء کا تلف کرنا جائز نہیں
📖 وذکر أبو اللیث في نوازله: حصیر المسجد إذا صار خلقاً واستغنی أهل المسجد عنه وقد طرحه إنسان إن کان الطارح حیاً فهو له وإن کان میتاً ولم یدع له وارثاً أرجو أن لا بأس بأن یدفع أهل المسجد إلی فقیر أو ینتفعوا به في شراء حصیر آخر للمسجد. والمختار أنه لایجوز لهم أن یفعلوا ذلک بغیر أمر القاضي، کذافي محیط السرخسي". ( الفتاویٰ الهندیة، /الباب الحادي عشر في المسجد وما یتعلق به/ ٤٢٨/٢/ ط: بيروت ) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟