الجواب وباللہ التوفیق مسجد کی وقف اشیاء خواہ وہ پرانی ہی کیوں نہ ہوں مسجد کی مملوکہ ہیں، ان کو ضائع کرنا صحیح نہیں ہے، ان پرانی اشیاء کو بیچ کر رقم مسجد ہی کے استعمال میں لانا چاہیے، وقف اشیاء کا تلف کرنا جائز نہیں

📖 وذکر أبو اللیث في نوازله: حصیر المسجد إذا صار خلقاً واستغنی أهل المسجد عنه وقد طرحه إنسان إن کان الطارح حیاً فهو له وإن کان میتاً ولم یدع له وارثاً أرجو أن لا بأس بأن یدفع أهل المسجد إلی فقیر أو ینتفعوا به في شراء حصیر آخر للمسجد. والمختار أنه لایجوز لهم أن یفعلوا ذلک بغیر أمر القاضي، کذافي محیط السرخسي". ( الفتاویٰ الهندیة، /الباب الحادي عشر في المسجد وما یتعلق به/ ٤٢٨/٢/ ط: بيروت ) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم

مزید متعلقہ سوالات