سوال:- ناخون پالش لگانے کے بعد وضو درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت اطمنان بخش بیان کریں؟
الجواب:-ناخون پالش لگانے کی بعد وضو درست نہیں ہے اس لیے کہ یہ تہد دار ہے جس کی وجہ سے ناخن تک پانی نہیں پہنچتا ہے اس لیے کہ وضو کی عضاء کے اندر ناخن بھی داخل ہے اور دھونا بھی فرض ہے اور اگر صاف کر لے تو وضو ہو جائے گا-
📖 وقيل إن صلبا منع وهو الاصح (در المختار) وفي الشامي: صرح به في شرح المنية وقال: لا متناع نفوذ الماء مع عدم الضرورة والحرج(شامي بيروت:٢٥٩/١ زكريا: ٢٨٩/١)
📖 شرط صحته اي الوضوء زوال ما يمنع وصول الماء الى الجسد كثمع شحم (مراقي الفلاح مع الطحطاوي:٦٢،اشرفيه)
📖 كما تستفاد من العبارت الاتية؛ لو قص الشارب لا يجب تخليله وان طال يجب تخليله وكأن وجهه ان قطعه مسنون فلا يعتبر قيامه في سقوط غسل ما تحته، بخلاف اللحية فان اعفائها هو السنون. (كبيري شرح: ١٨)
مزید متعلقہ سوالات
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟
- رکوع یا سجدہ میں دعائے ماثورہ کے بجائے قرآن پڑھنے کا حکم کیا ہے؟
- اگر لڑکا لڑکی زنا کی حد تک پہنچ جائے اور گواہ وہاں پر موجود نہ ہوں تو کیا لڑکا لڑکی کا آپس میں قبول کرنے سے نکاح ہو جاےگا
- اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے امام اور مقتدیوں کی مغفرت ہوتی ہے؟
- بچوں کی دینی اور دنیوی تعلیم میں زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟