الجواب:-ناخون پالش لگانے کی بعد وضو درست نہیں ہے اس لیے کہ یہ تہد دار ہے جس کی وجہ سے ناخن تک پانی نہیں پہنچتا ہے اس لیے کہ وضو کی عضاء کے اندر ناخن بھی داخل ہے اور دھونا بھی فرض ہے اور اگر صاف کر لے تو وضو ہو جائے گا-
📖 وقيل إن صلبا منع وهو الاصح (در المختار) وفي الشامي: صرح به في شرح المنية وقال: لا متناع نفوذ الماء مع عدم الضرورة والحرج(شامي بيروت:٢٥٩/١ زكريا: ٢٨٩/١)
📖 شرط صحته اي الوضوء زوال ما يمنع وصول الماء الى الجسد كثمع شحم (مراقي الفلاح مع الطحطاوي:٦٢،اشرفيه)
📖 كما تستفاد من العبارت الاتية؛ لو قص الشارب لا يجب تخليله وان طال يجب تخليله وكأن وجهه ان قطعه مسنون فلا يعتبر قيامه في سقوط غسل ما تحته، بخلاف اللحية فان اعفائها هو السنون. (كبيري شرح: ١٨)
مزید متعلقہ سوالات
- عیدگاہ مسجد کا حکم رکھتی ہے یا نہیں اور بقر عید کی نماز کے بعد آٹھ دس مہینے تک خالی پڑی رہتی ہے اس دوران پیڑ پودے لگا کر فائدہ اٹھانا جائز ہے یا نہیں نیز اس میں حائضہ اور نفساء کا گزر جائز ہے یا نہیں؟ دلائل کے ساتھ جواب تحریر فرمائیں ؟
- کیا اس بات کا بھی کوئی جزئیہ اور روایت موجود ہے کہ جس میں یہ بات ہو کہ خارج میں قاری تلاوت کر رہا ہے اور سامعین کی ایک بڑی تعداد ہے اس کی تلاوت میں اور قاری صاحب نے ایک سجدہ کے آیات تلاوت کی اب سجدہ کرنا ہے تو کیا جماعت بنا کر سجدہ کرنا ثابت ہے یا نہیں؟ ثابت ہو تو روایت اور جزئیہ نقل کریں؟
- ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے دروزہ کے باہر دروزہ کنڈہ لگایا ہوا ہے باہر سے آکر کوئی کنڈہ بجانے لگا اس نمازی نے نماز کی حالت میں کنڈی کھولی اس کی وجہ سے نماز فاسد ہوگی یا نہیں؟
- امام صاحب نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی سجدہ بھی کر لیا خارجی آدمی نے آیت سجدہ کی قراءت امام صاحب سے سنی تو خارجی آدمی پر سجدہ کرنا واجب ہے یا نہیں؟
- اگر دوران نماز بجلی چلی گئی اور خارج نماز شخص نے کہا کہ تکبیر کہدی جیو تو تکبیر کہنے والے کی دو حالتیں کی گئی ہیں(1) اس نے ضرورت کی وجہ سے تکبیر کہنا شروع کیا تو نماز درست ہو جائے گی (2) اس نے خارجی آدمی کے کہنے سے تکبیر کہی ہے تو مکبر کی نماز فاسد ہو جائے گی تو کیا اس کی اتباع کر کے رکوع اور سجدہ کرنے والے افراد کی بھی نماز فاصد ہو جائے گی فرمائیں؟