جواب:-اس مسئلہ میں زمین عشری اور خراجی کی بارے میں اکابرین کا اختلاف ہے حضرت مولانا مفتی محمود حسین گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں موجودہ حالت میں جبکہ زمین ملک سرکاری ہے تو نہ وہ عشری ہے اور نہ ہی خراجی ہے یعنی یہاں زمیندار کے افضہ میں جو سمین چھوڑی گئی ہے وہ گویا کہ حکومت نے اپنے قبضہ میں لے کر اسے یا بلا معاوضہ دی ہے لہذا اس کی حیثیت غیر مسلم کی عطا کردہ جاگیر جیسی ہو گئی ہے نیز بعض فقہی جزئیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دارالحرب کی زمینوں اور سرکاری ملکیت والی زمینوں میں عشر و خراج کچھ واجب نہیں ہوتا اس کے برخلاف حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کے رائی کا خلاصہ یہ ہے کہ اس خاص صورت میں حکومت کا تصرف اصل زمین داروں کی زمین میں مالکانہ نہیں بلکہ منتظمانہ ہے لہذا اس تصرف سے اس کے عشری ہونے کی حیثیت ختم نہیں ہوگی ان کی پیداوار میں دستور عشر واجب ہوگا اس دور کے بہت سے علماء و مفتیان نے دوسرے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہوئے ایسے زمینوں میں جو عرصہ دراز سے برابر مسلمانوں کی ملکیت میں چلے ا رہی ہے اس میں وہ شروع واجب قرار دیا ہے اور راج قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی زمین عشری یا خراجی نہیں ہے (کتاب النوازل:٢٣١/٧) (فتاوى محموديہ٣٢٤/١٤)(فتاوی قاسمیہ:٣٤٣/١١) (فتاوی دارالعلوم دیوبند:٢١١/٦-٢١٢)(امداد الاحکام:٣٧/٢-٣٨)

📖 ويحتمل ان يكون احترازا عما وجد في دار الحرب فان عرضها ليست ارض خراج او عشر.....(در المختار مع شامي: ٢٥٧/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

📖 وهذا نوع ثالث يعني لا عشرية ولا خراجية من الاراضي تسعى عرض المملكة مو اراضي الجوز....(حاشيه ابن عابدين ٢٩٤/٦ زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات