الجواب:-جس جگہ ایک بار مسجد بن چکی ہے وہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی اس کو کسی دوسرے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے لہذا پلیٹ فارم کی مسجد کو ریلوے کے استعمال کے لیے دینا جائز نہیں ہے اگرچہ حکومت اس کے بدلے میں دوسری جگہ بنا کر دے-(مستناد فتاوی قاسمیہ:٤٩٠/١٧)
📖 لو كان مسجد في محلة ضاق على اهله ولا يسعهم ان يزيدوا فيه فسالهم بعض الخير ان يجعلوا ذلك المسجد له ليدخله في داره ويعطيهم مكانه عوضا ما هو خير له فيسع فيه اهل المحلة؟ قال محمد: لا يسعهم ذلك.(هندية:٤٥٧/٢، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، زكريا،قديم)(الفتاوى التاتارخانية:١٦٢/٨،رقم: ١١٥١١،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟