الجواب وباللہ التوفیق قارون حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں ایک شخص تھا اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا رشتہ دار تھا البتہ رشتہ دارری کیا تھی اس میں حضرات مفسرین کا اختلاف ہے، اور وہ پہلے مومن شخص تھا اور تورات کا حافظ تھا لیکن پھر بعد میں اس نے کفر اختیار کیا اور روایات، آیات، احادیث ، اور جزئیات کی روشنی میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا انتقال کفر پر ہوا ہے حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ضمنا اس کے کفر کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ بیان القران ۱۲۱/۲میں ہے اور قران مجید میں ایک جگہ اس قدر آیا ہے فكلا اخذنا بذنبه آگے اس کی تعمیل میں فرمایا ہے اور ومنهم من خسفنا به الارض اور ذنب عام ہے ممکن ہے کہ یہی ذنب مذکور ہو یا اس کے سوا اور بھی ہو اور سب سے بڑھ کر کفر کرنا اور ایمان نہ لانا ذنب ہے شاید یہ پہلے ہی ایمان نہ لایا ہو جیسا کہ سورہ مومن میں آیت ولقد ارسلنا موسى باياتنا وسلطان مبين الى فرعون وهامان وقارون فقالوا ساحر كذاب .الاخ سے بظاہریہی معلوم ہوتا ہے ۔

📖 قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَا مَنَ وَ لَقَدْ جَاءَهُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَتِ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ وَ مَا كَانُوا سَبِقِيْنَ - فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَ مِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُمْ مَّنْ أَغْرَقْنَا وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ . (سورۂ عنکبوت ۳۹-۴۰)

📖 وله تعالى : ﴿وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ قال الكسائي : إن شئت كان محمولاً على عاد، وكان فيه ما فيه، وإن شئت كان على فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وصد قارون وهامان ، وقيل : أي وأهلكنا هؤلاء بعد أن جاءتهم الرسل (فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ) عن الحق وعن عبادة الله . ﴿وَمَا كَانُوا سَابِقِينَ) أي فائتين . وقيل : سابقين في الكفر بل قدسبقهم للكفر قرون كثيرة فأهلكناهم. (الجامع لاحكام القران ۳۴۴/۱۳،دار احياء التراث العربي)

📖 ﴿وَيَكانهُ لَا يُفْلِحُ الكَفِرُونَ ) ، يعنون أنه كان كافراً، ولا يفلح الكافرون عند الله، لا في الدنيا ولا في الآخرة. (تفسیر ابنِ کثیر زکریا ۳۷/۵، سورۂ قصص تحت رقم الآیۃ ۸۳

مزید متعلقہ سوالات