الجواب:-شریعت نے طلاق دینے کا حق صرف شوہر کو دے رکھا ہے اور ان کی علاوہ بیوی کو طلاق کے حق نہیں اور طلاق اس وقت دے جب اس کو سمجھانے کے بعد بھی وہ باز نہ ائے اس کی وجہ سے اور دل نہ ملنے سے تو اس وقت طلاق دے اور عورت کو اسی لیے نہیں دیا چونکہ فطری ساخت کے اعتبار سے فرق ہے اس لیے شریعت نے نہ تو عورتوں پر کمانے کا بوجھ ڈالا ہے اور نہ ان کو طلاق کے اختیار ہے-

📖 وللرجال عليهن درجة.....(البقرة ايت:٢٢٨)

📖 عن ابن عباس قال........ فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:...... انما الطلاق لمن اخذ بالساق.....(سنن ابن ماجه: ١٥١،كتاب الطلاق باب الطلاق العبد النسخة الهندية دار السلام)

📖 واما حكم الطلاق فزوال الملك عن المحل.....وزوال حل العقد متى ثم ثلاث.....(تاتارخانية ٣٧٧/٤ زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات