جواب:-طواف زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے اگر کسی نے دو رکعت ادا نہیں کی ہو تو اس کا طواف ادا ہو گیا البتہ نوافل کو چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا اور کوئی شخص عصر کے بعد طواف مکمل کرے تو وہ بھی دو رکعت نہ پڑھے کیونکہ عصر کے بعد کسی قسم کی نوافل ادا کرنا درست نہیں ہے بلکہ مغرب کی فرض نماز کے بعد سنتوں سے پہلے طواف کی دو رکعت ادا کر لے۔فقط واللہ اعلم

📖 ولو طاف اسابيع فعليه لكل اسبوع ركعتان على حدة...... ويكره تاخيرها عن الطواف الا وقت مكروه اي لان الموالات سنة ولو طافه بعد العصر يصلي المغرب ثم ركعتي التواف ثم سنة المغرب (بحر الرائق ٣٥٦/٢ باب الاحرام)

📖 صلاه ركعتين لكل اسبوع من اي طواف كان فلو تركها هل عليه دم قيل نعم فيوصي به(در مختار مع رد مختار: ٥٤١/٣ كتاب الاحج الاشرفه ديوبند)

📖 ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد الصبح حتى تشرق الشمس وبعد العصر حتى تغرب (صاحب بخاري: ١٢٠/١ رقم الحديث: ٥٨١)

مزید متعلقہ سوالات