جواب:-زکوۃ فقراء اور مساکین کا حق ہے اور یہ فقراء عام ضرورت مند بھی ہو سکتے ہیں اور مدارس کے طلباء بھی لہذا قرائن اور حالت دیکھتے ہوئے جہاں ضرورت مند زیادہ ہو وہاں خرچ کرنا زیادہ ثواب ہوگا یعنی دونوں ممکن ہیں مثلا اپ کے پڑوسی یا قریبی رشتہ دار ضرورت مند ہو تو ان کو دینے سے دوگنا ثواب ملے گا ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح مدارس میں قرض کرنے سے زکوۃ کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کے نشر اشاعت کا بھی ثواب ملتا ہے۔فقط واللہ اعلم

📖 انما صدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفه قلوبهم (صورة التوبة: الآية:٦)

📖 سليمان بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ان الصدقة على المسكين صدقة وعلى ذي رحم اثنتان وصدقة وصلة....(سنن الترمذي:١٤٢/١،رقم الحديث: ٦٥٣)

📖 مصرف الزكاة هو فقير.... عن طالب العلم يجوز له الزكاة ولو غنيا اذا فرغ نفسه لا فاده العلم .... والتصدق على العالم الفقير افضل عين جاهل الفقير....(دور المختار مع شامي: ٢٨٣/٣-٣٠٤،كتاب الزكاة زكريا دوبند)

مزید متعلقہ سوالات