جواب:-زمین کی پیداوار پر زکوۃ واجب ہے لیکن اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر زمین عشری ہو یعنی اکثر حصہ میں قدرتی بارش، ندی، چشمہ وغیرہ سے سے رب کی جائے تو اس میں کل پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہوتا ہے اگر وہ زمین مصنوعی آبی اور رسائی کے آلات و وسائل مثلا ٹیپ ویل یا خریدے ہوئے پانی سے سیرا کی جائے تو اس میں نصف و عشر (یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ) واجب ہوتا ہے۔

📖 فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب ..... ويجب العشره عند ابي حنيفه رحمه الله في كل ما تخرجه الارض من: الحنطة والشعير...(الهنديه: ٢٤٧/١ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

📖 وتعجب فيه مسقي سماء اي مطر وسيح كنهر بلا شرط مصاب راجع لكل وبلا شرط بقاء وحولان حول..... نحو حطب وقصب... نصفه في مسقي غرب..... بلا رفع مؤن كلف الذرع وبلا اخراج البذر...(الدر المختار:٢٦٥/٣-٢٦٩ كتاب الزكاة باب العشر)

📖 قال ابو حنيفه في قليل ما اخرجه الارض وكثيره العشر سواء يسقي سيحا او سقته السماء الا القصب والحطب والحشيش وقال لا يجب العشر الا فيما له ثمرة باقية....(هدايه: ١/٢١٧/١-٢١٨ كتاب زكاة زمزم بوك ،ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات