الجواب وبالله التوفيق: حدیث شریف میں ہے کہ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کی اجازت نہیں ۔۔ الا یہ کہ کوئی شرعی وجہ ہو ۔۔ اور اس میں بھی بہتر اور افضل شخص اُس کو کہا گیا ہے جو ابتداء بالسلام کرے ۔۔ اور یہ بات بھی مذكور ہے کہ اگر وہ اُس سے ملا اور تینوں مرتبہ سلام کیا اور اُس نے جواب نہیں دیا ۔۔ تو اِبتدا با السلام والا ماخوذ نہ ہوگا ۔۔ باقی آپ جائز کوشش کرتے رہیں منانے کہ اگر مان جائیں تو فبہا و نعمت ۔ اور پیٹھ پیچھے دعاء بھی کرتے رہیں اُن کے لئے۔ واللہ اعلم بالصواب

📖 عن عائشة رضي الله عنها، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يكون أي لا يجوز لمسلم أن يهجر مسلماً فوق ثلاث أي ثلاثة أيام، فإذا لقيه سلم عليه ثلاث مرار كل ذلك لا يرد عليه السلام، فقد باء أي رجع الذي لا يرد السلام بإثمه أي بإثم المسلم. (بذل المجهود/كتاب الأدب/باب: في هجرة الرجل أخاه، ٣٢١/١٣، ط: دار البشائر الإسلامية)

مزید متعلقہ سوالات