الجواب:-اگر خون اتنی مقدار یعنی اگر انجکشن لیتے وقت خون نہ نکالے تو وضو نہیں ٹوٹے گا اگر نکالے اتنے مقدار کہ نا بہہ پڑے تو وضو نہیں ٹوٹتا اگر بہہ پڑے تو ٹوٹ جائے گا-
📖 والمراد أن تتجاوزه ولو بالعصر، وماشأنه اي يتجاوز لولا المانع كما لو مصت عقلة فامتلات بحيث لو شقت لسال منها الدم(حاشية الطحطاوي فصل فيما ينقض الوضوء اشرفيه:٨٧)
📖 عن عمر بن عبد العزيز قال قال تميم الداري قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :الوضوء من كل دم سائل.(دار قطني،باب في الوضوء من الخارج من البدن... دار الكتب العلميه بيروت: ١٦٣/١،رقم ٥٧١،معرفة السنن والاثار: ٤٢٧/١)
📖 عن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ليس في القطرة والقطرتين من الدم وضوء حتى يكون دما سائلا(دار قطني: ١٦٤/١،باب في الوضوء من الخارج من البدن دار الكتب العلمية بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص رخصتی سے پہلے کسی بات پر ناراض ہو کر اپنے بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے یا یہ کہے دے کہ تجھ کو تینوں طلاق ہے تو ان دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے دونوں صورتوں میں ایک حکم ہوگا یا الگ الگ اگر ایک ہو تو کیوں اگر الگ الگ ہو تو کیوں مدلل المفصل بیان کریں؟
- اگر پانچ ادمی مل کر روپیے جمع کرے اور پھر اس روپیے سے ایک حصہ خرید کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے قربانی دے تو یہ قربانی درست ہوگی یا نہیں؟
- اغوا کار پکڑا جائے مگر بچہ نہ ملے تو شرعی حکم
- حیض کے درمیان دو دن پاکی کا شرعی حکم
- اپنے زیورات کا دوسرے کے زیورات سے تبادلہ کرنا کیسا ہے؟