الجواب وباللہ التوفیق یہ بات واضح رہے کہ فون پر اور حالت نشے میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ بھائی نے دو مرتبہ طلاق کا لفظ سنا ہے تو ایسی صورت میں بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہو چکی ہیں عدت کے دوران رجعت کرنے کی گنجائش ہے ، اور تیسری مرتبہ کے بارے میں احتمال ہے تو اس بارے میں شوہر سے ہی معلوم کر لیا جائے اگر تیسری طلاق دینے کا علم ہو جائے تو تینوں طلاق واقع ہو جائیں گی ، اور اگر علم نہ ہو تو دو ہی طلاق واقع ہوں گی۔

📖 عن عبد الله بن مقسم قال : سمعت سليمان بن يسار، يقول: إن رجلا من آل البختري طلق امرأته وهو سكران ، فضربه عمر الحد وأجاز عليه طلاقه . (سنن سعيد بن منصور، باب ماجاء في طلاق ، دار الكتب العلمية بيروت ١ / ٢٧٠، رقم: ١١٠٦)

📖 إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية، أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها. ( هداية، زكريا قديم ١ / ٤٧٠ ، جديد ٥٣٣/١ ، هداية اشرفيه ديوبند ٣٩٤/٢) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

مزید متعلقہ سوالات