الجواب:-اگر اولاد کما کر باپ کو مالک بنا کر دے دیتے ہیں اور باپ اس مال میں تصرف کرتا ہوں اور اولاد کے پاس نصاب کے بقدر رقم نہ ہو تو اس صورت میں اولاد پر قربانی واجب نہیں اگر صرف باپ کی ملکیت میں نصاب کے برابر رقم موجود ہو تو ان پر قربانی واجب ہے اور اگر اولاد میں سے کوئی صاحب نصاب ہے تو ان پر بھی قربانی واجب ہے حاصل یہ ہے کہ جس جس کے پاس نصاب کے بقدر رقم یا سورت اصلیہ سے زائد سامان موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔

📖 📖 واليساو الذي يتعلق به وجب صدقه بان مالك ماتى درهم او عوضا يساويها غير مبكنه وثياب اللبس ومتاع متاجه الي ان يذبح الاضحية--//شامي, ج:٩,ص:٥٢٠, كتاب الاضحيه اشرفيه ديوبند

📖 📖 والموسر في ظاهر الروايه من له ماءتا درهم او عشرون دينارا او شيء تبلغ ذلك مسكنا ومتاع مسكنا ومركبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها--//الهنديه, ج:٥,ص:٢٩٢, كتاب الاضحيه الباب الاول، زكريا, ديوبند

📖 📖 الاضحيه واجبه على كل مسلم مقيم موسرن في يوم الاضحيه عن نفسه --//الهدايه, ج:٤,ص:٤٤٢, كتاب الاضحيه، اتحاد،ديوبند