📖 وقدر بغسل و عصر ثلاثاً فيما ينعصر و بتثليث جفاف أي انقطاع تقاطر في غيره أي غير منعصر ( تنوير مع الدر ) وقال الشامي : قوله أي غير منعصر أي بأن تعذر عصرہ کا لحذف أو لعسر کا لبياظ أفاده في شرح المنية ( در مختار مع الشامی : ۵۴۱/۱ کتاب الطهارة، باب الانجاس، مطلب في حكم الوشم ، زکریا)
📖 و ما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات، والتجفيف في كل مرة لأن للتجفيف أثراً في استخراج النجاسة، وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس. الفتاوی الہندیۃ القدیمۃ۴۲/۱، کتاب الطہارۃ ، الباب السابع في النجاسة، الفصل الأول في تطهير الانجاس)
📖 قوله وبتثليث الجفاف فيما لا ينعصر اى ما لا ينعصر فطهارته غسله ثلاثا وتجفيفه في كل مرة لان للتجفيف اثراً في استخراج النجاسة وهو ان يتركه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس . (البحر الرائق: ۲۳۸/۱، کوئٹہ) فقط اللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص سفر شرعی مقدار سے دور جگہ پر ملازمت کرے اور وہ کبھی ہفتہ میں یا کبھی مہینہ میں یا کبھی پندرہ دن پر گھر آ جائے تو ایسے شخص کا ملازمت کی جگہ شرعا کیا حکم ہے؟
- کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل ہو جاتا ہے اور کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل نہیں ہوتا مدلل جواب تحریر کریں؟
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟