جواب:-اگر کوئی شخص استطاعت سے پہلے اگر فرض حج کی نیت سے احرام باندھ کر حج کر لے تو استطاعت کے بعد دوبارہ حج کرنا ضروری نہیں لیکن اگر نفل حج کی نیت سے احرام بندہ ہو تو استطاعت کے بعد اس پر حج فرض ہوگا اور اگر اس نے فرض اور نفل کی نیت کے بغیر مطلب نیت کر کے احرام باندھا تھا تب بھی استطاعت کے بعد اسی شخص پر دوبارہ حج کرنا ضروری نہیں ہوگا-فقت واللہ اعلم
📖 📖 📖 ولو حج الفقير ثم استغنى لم يحج ثانيا لان الشرط الوجوب التمكن من الاصول الى موضع المكي وفي النوادر انه يحج ثانيا//--مجمع الانهار-٢٦٠/١-مكتبة دار الاحياء
📖 📖 📖 ولو حج الفقير ماشيا فقط عنه حجة الاسلام حتى لو استغنى بعد ذلك لا يكرمه ثانيا//--البنايه شرح الهدايه--٤/١٤٤//مكتبة دار العلميه
📖 📖 📖 ليفيد انه يتعين عليه ان لا ينوي نفلا على زعم انه لا يجب عليه لفقره فلو نواه نفلا لزمه الحج ثانيا//--الدر المختار-(٤٦٠/٢ مكتبة دار احياء والنوات العربي)
مزید متعلقہ سوالات
- سونا یا چاندی کرنسی کے عوض میں ادھار خریدنا جائز ہے یا نہیں ؟ ان سب مسائل کا جواب اچھی طرح غور کر کے تحریر فرمائیں؟
- ارکان حج کتنی ہے ؟ہر ایک کی وضاحت کریں؟
- سفر حج پر روانگی کے وقت اور اس سے واپسی کے وقت دعا کرنا شرعا کیسا ہے؟
- تعمیر مسجد میں غیر مسلم کا پیسہ، سرکاری پیسہ اور کنڈیڈیٹس کے واسطے پیسہ لگانا جائز ہے؟
- مینڈک کا تیل ایک درہم سے زائد لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟