جواب :-حج کے کل تین رکنے ہیں(١) احرام، دل سے حج کی نیت کر کے مکمل تلبیہ پڑھنا (۲). وقوف عرفہ یعنی نويں ذی الحج کو زوال افتاب کے بعد سے لے کر دسویں ذیحجہ کی صبح صادق کے درمیان میدان عرفات میں ٹھہرنا چاہے کچھ دیر ہی کیوں نہ ہو(یہ رکنا اعظم ہے اگر کسی نے وقوف عرفہ نہ کیا اس کا حج ہی نہیں ہوگا چاہے دم ہی کیوں نہ دے دے (۳). طواف زیارت جو کہ عقوف عرفہ کے بعد کیا جاتا ہے جب تک حاجی طواف زیارت نہ کر لے حج مکمل نہیں ہوتا بیوی اس کے لیے نہیں ہوتی اس کا وقت دلہج کے سورج طلوع ہونے سے لے کر 12 ذلحج کا سورج گروپ ہونے تک ہے وقت مقررہ درمیان طواف نہ کرنے کی صورت میں دم لازم ہوتا ہے-فقط واللہ اعلم
📖 📖 الحج(فرضه) ثلاثة(الاحرام) وهو شرط ابتداون وله حكم الركن انتهاء حتى لم يدوس لفائت الحج استدامه ليقضي به من قابل و لوقوفي عرفته في اوانه سميت به لان ادم وحواء تعارفا فيما. ومعزمه طواف الزياره وهما ركنان (شامي: ٥٣٦/٣-٥٣٧, كتاب الحج اشرفيه, ديوبند
📖 📖 فضل ركن الحج(فصل) واما ركن الحج--احدهما الوقوف العرفة وهو الركن المصلي والثاني طواف الزيارة//--(بدائع )-١٢٥/٢ كتاب الحج
📖 📖 فنقول: ركن الحج شيئان: الوقوف العرفة وطواف الزياره---لان الوقوف يؤدي في حال قيام الاحرام من وجهه//-- (المحيط البرهاني) ٦٩٣/٢
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟