جواب:-حجاج کرام کا سفر حج کو جانے سے پہلے یا سفر حج سے واپسی پر دعوت کرنا اور اس دعوت کو ضروری سمجھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم ائمہ مستحدین اور سلف صالحین سے بھی ثابت نہیں ہے سلف و خلف کیتری کا مسنونہ کے خلاف ایک نئے طریقہ کا ایجاد کرنا ہے جو فریضہ حج کو ادائیگی کے لیے رکاوٹ ہے ان سے گریز کرنا ہر حاجی اور ہر مسلمان پر لازم ہے اس سے پتہ چلتا ہے شرعا ممنوع ہے
📖 📖 انا عبد الله بن عمر رضي الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا لقيت الحاج فسلم عليه وصافحه مره ان يستغفرلك قبل ان يدخل بيته فانه مغفور له (مسند امام احمد/٦٩/٢, رقم،٥٣٧١)
📖 📖 انا اعيش رضي الله تعالى عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من احدث في امرنا هذا ما ليس منه،فهو رد (ابن ماجه شريف باب التعظيم حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم التغليظ على من عارضه النسخة الهندية:٣, دار السلام رقم: ١٤)
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟