عیب کی تعریف مع مثال تحریر کریں؟
الجواب:-عیب کہتے ہیں ہر ایسی چیز کو جو قیمت کو گھٹائے تاجروں کے نزدیک مثلا کوئی آدمی کپڑا خریدے پھر وہ کپڑا چوہا وغیرہ کاکٹا ہوا نکلے تو مشتری کو کپڑا واپس کرنے کا حق ہوگا-
📖 وکل ما اوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب....(الهداية:٦١/٣،كتاب البيوع باب خيار لعيب،نعمية ديوبند)
📖 وكل ما يوجب نقصان الثمن في عاده التجار فهو عيب....(الفتاوى السراجية السراجية:٤٣١ ،كتاب البيوع ،باب خيار العيب،زكريا ضبوبي افريقه)
📖 من وجد بمشرية ما ينقص الثمن.... عند التجار(شامي: ١٦٩/٧-١٧٠،كتاب البيوع باب خيار العيب،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- گاڑیوں کے کرائے سے حاصل شدہ رقم سے سال کے اندر دوسری گاڑی خریدنے پر زکوٰۃ کیسے ادا ہوگی؟
- امام کے بال انگریزی طرز پر کٹے ہوئے ہوں تو اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
- جمعہ کے خطبے سے پہلے منبر پر سلام کرنا سنت ہے یا نہیں؟
- سونا (Gold) کا بونڈ خریدنا کیسا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کے آربی آئی مشتری کے نام ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے موجودہ قیمت کے لحاظ سے، پھر ایک طے شدہ مدت کے بعد اسے مارکیٹ ویلو کے اعتبار سے آپ فروخت کرسکتے ہیں واضح رہے کہ آپ سونے کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتے ہیں ۔ کیا اس طرح سونے کا بونڈ خریدنا جائز ہے
- ایک شخص نے وصیت کی کہ ان پیسوں کو مسجد میں لگادینا پھر اس کا انتقال ہوگیا تو کیا ان پیسوں کو مدرسہ میں خرچ کرسکتے ہیں ؟