الجواب:-عیب کہتے ہیں ہر ایسی چیز کو جو قیمت کو گھٹائے تاجروں کے نزدیک مثلا کوئی آدمی کپڑا خریدے پھر وہ کپڑا چوہا وغیرہ کاکٹا ہوا نکلے تو مشتری کو کپڑا واپس کرنے کا حق ہوگا-
📖 وکل ما اوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب....(الهداية:٦١/٣،كتاب البيوع باب خيار لعيب،نعمية ديوبند)
📖 وكل ما يوجب نقصان الثمن في عاده التجار فهو عيب....(الفتاوى السراجية السراجية:٤٣١ ،كتاب البيوع ،باب خيار العيب،زكريا ضبوبي افريقه)
📖 من وجد بمشرية ما ينقص الثمن.... عند التجار(شامي: ١٦٩/٧-١٧٠،كتاب البيوع باب خيار العيب،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم
- سورۂ ص میں سجدہ اناب پر ہے یا اگلی آیت پر؟