جواب:- صورت مسؤلہ میں سورہ ص کا سجدہ “حسن مآب” پر ہے لیکن اگر کوئی “اناب” پر سجدہ کر لے تب بھی ایک قول کے مطابق ادا ہو جائے گا لیکن اگلی والی آیت “حسن مآب” پر سجدہ کرنا چاہیے-المستفاد: فتاوی محمودیہ،٤٧١/٧)
📖 نحن نعد ذلك شكرا لما انعم الله على داؤد بالغفران والوعد بالزلفى وحسن الماب ولهذا لا يسجد عندنا عقيب قوله تعالى"اناب" بل عقيب قوله "حسن ماب" وهذه نعمه عظيمة في حقنا(بدائع الصنائع :٤٥٢/١)
📖 وظن داود أنما فتناه فاستغفر ربه وخر راكيا واناب فغفرنا له ذلك وان له عندنا لزلفى وحسن ماب وهذا هو الأولى مما قاله الزيلعي تحب عند قوله تعالى! وخر راكعا واناب وعند بعضهم عند قوله تعالى "وحسن ماب"(حاشية الطحطاوي:ص:٤٨٢)
📖 وفي ص عند (وحسن ماب) وهو اولى من قول الزيلعي عند "واناب"(شامي: ٥٧٦/٢،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم
- مہر کے بغیریا ا نکاریا اقل مہر سےنکاح کرنے کا شرعی حکم