عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم
📖 وَكُرِهَ تَحْرِيمًا صَلَاةٌ مُطْلَقًا، وَلَوْ قَضَاءً، أَوْ وَاجِبَةً، أَوْ نَفْلًا، أَوْ عَلَى جِنَازَةٍ، وَسَجْدَةَ تِلَاوَةٍ وَسَهْوٍ، لَا شُكْرٍ، مَعَ شُرُوقٍ، وَاسْتِوَاءٍ، وَغُرُوبٍ، إِلَّا عَصْرَ يَوْمِهِ، فَلَا يُكْرَهُ فِعْلُهُ لِأَدَائِهِ كَمَا وَجَبَ، بِخِلَافِ الْفَجْرِ، وَالْأَحَادِيثُ تَعَارَضَتْ فَتَسَاقَطَتْ كَمَا بَسَطَهُ صَدْرُ الشَّرِيعَةِ.حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصلاة، ج 2، ص 30–33، مكتبة زكريا، ديوبند۔
📖 العصرُ يومَه عند غروبِ الشمس، فإنَّه يجوزُ أداؤه لبقاءِ سببه، وهو الجزءُ المتصلُ به الأداءُ من الوقت، فأُدِّي كما وجب، بخلاف غيرِها من الصلوات، فإنَّها وجبت كاملةً، فلا تتأدَّى بالنقص...حوالہ: اللباب في شرح الكتاب، ج 1، ص 97، كتاب الصلاة، مكتبة أشرفية، ديوبند۔
📖 العصرُ يومَه عند الغروب؛ لأنَّ السببَ هو الجزءُ القائمُ من الوقت؛ لأنَّه لو تعلَّق بالكلِّ لوجب الأداءُ بعده... وإذا كان كذلك فقد أدَّاها كما وجبت، بخلاف غيرِها من الصلوات؛ لأنَّها وجبت كاملةً، فلا تتأدَّى بالناقص...حوالہ: الهداية في شرح بداية المبتدي، ج 1، ص 82–83، كتاب الصلاة، زمزم، ديوبند۔
مزید متعلقہ سوالات
- گاڑیوں کے کرائے سے حاصل شدہ رقم سے سال کے اندر دوسری گاڑی خریدنے پر زکوٰۃ کیسے ادا ہوگی؟
- امام کے بال انگریزی طرز پر کٹے ہوئے ہوں تو اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
- جمعہ کے خطبے سے پہلے منبر پر سلام کرنا سنت ہے یا نہیں؟
- سونا (Gold) کا بونڈ خریدنا کیسا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کے آربی آئی مشتری کے نام ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے موجودہ قیمت کے لحاظ سے، پھر ایک طے شدہ مدت کے بعد اسے مارکیٹ ویلو کے اعتبار سے آپ فروخت کرسکتے ہیں واضح رہے کہ آپ سونے کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتے ہیں ۔ کیا اس طرح سونے کا بونڈ خریدنا جائز ہے
- ایک شخص نے وصیت کی کہ ان پیسوں کو مسجد میں لگادینا پھر اس کا انتقال ہوگیا تو کیا ان پیسوں کو مدرسہ میں خرچ کرسکتے ہیں ؟