الجواب:- صورۃ مسئولہ میں دونوں کا حکم الگ الگ ہیں کہ عصر کی نماز کے دوران سورج غروب ہو جائے تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہو جائے گی اور فجر کی نماز کے دوران سورج طلوع ہو جائے تو نماز باطل ہو جائے گی اس کی وجہ کے بارے میں اصول یہ ہے کہ سبب جیسا ہوگا ویساہی مسبب ہوگا یعنی سبب کامل ہو تو مسبب بھی کامل ہوگا اور سبب ناقص ہو تو مسبب بھی ناقص ہوگا اب عصر کی نماز ناقصا واجب ہوئی لہذا ادا بھی ویساہی ہوگا اور فجر کاملا واجب ہوا لہذا ادا بھی کامل ہوگا اور یہاں ایسا نہیں ہوا اس لیے فجر کی نماز درست نہیں ہوگی-

📖 وَكُرِهَ تَحْرِيمًا صَلَاةٌ مُطْلَقًا، وَلَوْ قَضَاءً، أَوْ وَاجِبَةً، أَوْ نَفْلًا، أَوْ عَلَى جِنَازَةٍ، وَسَجْدَةَ تِلَاوَةٍ وَسَهْوٍ، لَا شُكْرٍ، مَعَ شُرُوقٍ، وَاسْتِوَاءٍ، وَغُرُوبٍ، إِلَّا عَصْرَ يَوْمِهِ، فَلَا يُكْرَهُ فِعْلُهُ لِأَدَائِهِ كَمَا وَجَبَ، بِخِلَافِ الْفَجْرِ، وَالْأَحَادِيثُ تَعَارَضَتْ فَتَسَاقَطَتْ كَمَا بَسَطَهُ صَدْرُ الشَّرِيعَةِ.حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصلاة، ج 2، ص 30–33، مكتبة زكريا، ديوبند۔

📖 العصرُ يومَه عند غروبِ الشمس، فإنَّه يجوزُ أداؤه لبقاءِ سببه، وهو الجزءُ المتصلُ به الأداءُ من الوقت، فأُدِّي كما وجب، بخلاف غيرِها من الصلوات، فإنَّها وجبت كاملةً، فلا تتأدَّى بالنقص...حوالہ: اللباب في شرح الكتاب، ج 1، ص 97، كتاب الصلاة، مكتبة أشرفية، ديوبند۔

📖 العصرُ يومَه عند الغروب؛ لأنَّ السببَ هو الجزءُ القائمُ من الوقت؛ لأنَّه لو تعلَّق بالكلِّ لوجب الأداءُ بعده... وإذا كان كذلك فقد أدَّاها كما وجبت، بخلاف غيرِها من الصلوات؛ لأنَّها وجبت كاملةً، فلا تتأدَّى بالناقص...حوالہ: الهداية في شرح بداية المبتدي، ج 1، ص 82–83، كتاب الصلاة، زمزم، ديوبند۔