الجواب: اذان کے بعد دعا پڑھنا ثابت ہے، اور منقول الفاظ کے ساتھ مزید کچھ الفاظ کا اضافہ کرنا بھی درست ہے، بشرطیکہ منقول دعا کے الفاظ میں کسی قسم کی تبدیلی یا تقدیم و تاخیر نہ کی جائے۔ یعنی مسنون اور منقول الفاظ کو جوں کا توں پڑھنے کے بعد ان کے علاوہ مزید دعائیہ الفاظ کا اضافہ کرنا جائز ہے، البتہ منقول الفاظ کو بدل کر ان کی جگہ دوسرے الفاظ پڑھنا درست نہیں ہے۔
📖 ويدعو عند فراغة بالوسيلة لرسول الله صلى الله عليه وسلم..... اللهم رب هذه الدعوة التامة ... حلت له شفاعتي يوم القيامة وزاد البيهقي في آخره انك لا تخلف الميعاد....(رد المختار مع الشامي: ٦٧/٢-٦٨،كتاب الصلاة ،باب الاذان ،زكريا ديوبند)
📖 اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة ات محمد الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته انك لا تخلف الميعاد....(صحيح البخاري: ٨٦/٦،كتاب الصلاة،دمشق)
📖 اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة ات محمد الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته انك لا تخلف الميعاد.....(مرقاه المفاتيح شرح مشكوة المصابيح:٥٦١/٢،كتاب الصلاة،ط: بيروت لبنان)
مزید متعلقہ سوالات
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم
- سورۂ ص میں سجدہ اناب پر ہے یا اگلی آیت پر؟
- مہر کے بغیریا ا نکاریا اقل مہر سےنکاح کرنے کا شرعی حکم