👁دیکھنے والوں کی تعداد:1
ایک عورت کے ٣ مہینے کا حمل ہے تو کیا وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے؟؟
الجواب وبا اللہ التوفیق اگر حاملہ کو یہ خوف ہو کہ روزہ کی وجہ سے خود اسکو یا حمل کو کوئ نقصان پہچ سکتا ہے تو حاملہ کے لۓ روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے بعد میں اسکی قضا کرنا ضروری ہے
📖 📖 عن انس ابن مالک وال رخص رسول الله صلی الله عليه وسلم للحبلی التی تخاف علی نفسھا ان تفطر وللمرضع التی تخاف علی ولدھا ( سنن ابن ماجہ کتاب الصوم باب ماجاء فی الافطار للحامل المرضع. ۲/ ۵۷۶. ط. دار الرسائلۃ العالمیۃ )
📖 📖 قولہ ویجوز الفطر لحامل ھی التی فی بطنھا حمل بفتح الحاء ای ولد (حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصوم باب ما یفسد الصومو یوجب القضاء فصل فی العوارض ۶۸۴ ط دار الکتب العلمیہ بیروت )
مزید متعلقہ سوالات
- میت کی قبر کھودی آج اور میت پوسٹ ماسٹم کے لئے گئی تھی اور وہ بول رہےہیں کی بوڈی کل ملے گی اب اس قبر کا کیا کریں؟
- کیا سرکاری زمین پر گاؤں والوں کے مسجد تعمیر کرنے سے وہ شرعی مسجد بن جائے گی؟
- کیا ہاتھ پیچھے باندھ کر چلنے کی ممانعت کسی حدیث سے ثابت ہے؟
- گنجے شخص کے لیے وگ پہننے کی صورت میں وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟
- اگر پانی کی ٹنکی میں ہڈی مل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟