الجواب وبا اللہ التوفیق اگر حاملہ کو یہ خوف ہو کہ روزہ کی وجہ سے خود اسکو یا حمل کو کوئ نقصان پہچ سکتا ہے تو حاملہ کے لۓ روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے بعد میں اسکی قضا کرنا ضروری ہے
📖 📖 عن انس ابن مالک وال رخص رسول الله صلی الله عليه وسلم للحبلی التی تخاف علی نفسھا ان تفطر وللمرضع التی تخاف علی ولدھا ( سنن ابن ماجہ کتاب الصوم باب ماجاء فی الافطار للحامل المرضع. ۲/ ۵۷۶. ط. دار الرسائلۃ العالمیۃ )
📖 📖 قولہ ویجوز الفطر لحامل ھی التی فی بطنھا حمل بفتح الحاء ای ولد (حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصوم باب ما یفسد الصومو یوجب القضاء فصل فی العوارض ۶۸۴ ط دار الکتب العلمیہ بیروت )
مزید متعلقہ سوالات
- سردی کے موسم میں لحاف وغیرہ ناپاک ہوجائے تو صرف تر کپڑے سے پوچھ دینے سے پاک ہوجائے گا ؟ واضح رہے کہ اگر دھل دیا جاۓ تو خشک ہونے میں وقت لگتا ھو؟
- اگر کوئی شخص سفر شرعی مقدار سے دور جگہ پر ملازمت کرے اور وہ کبھی ہفتہ میں یا کبھی مہینہ میں یا کبھی پندرہ دن پر گھر آ جائے تو ایسے شخص کا ملازمت کی جگہ شرعا کیا حکم ہے؟
- کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل ہو جاتا ہے اور کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل نہیں ہوتا مدلل جواب تحریر کریں؟
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟