جواب: ملکی کرنسی کا ملکی کرنسی کے ساتھ تبادلہ بیعِ صرف نہیں ہے، کیونکہ علماء نے کاغذی نوٹوں، یعنی ملکی کرنسی کو ثمنِ اصطلاحی و عرفی قرار دیا ہے، جبکہ بیعِ صرف میں ثمنِ خلقی کا ثمنِ خلقی کے ساتھ تبادلہ ہوتا ہے۔
📖 عقدُ الصرف: بيعُ الثمنِ بالثمنِ، ومنه المصوغُ جنسًا بجنسٍ، أو بغير جنسٍ، ذهبًا بفضةٍ.(رد المحتار على الدر المختار، 5/257)
📖 فالصرف في متعارف الشرع اسمٌ لبيعِ الثمنِ بالثمنِ مطلقًا، وهو بيعُ الذهبِ بالذهبِ والفضةِ بالفضةِ...(بدائع الصنائع، 5/515)
📖 وبيعُ الفلوسِ بالدراهمِ ليس بصرفٍ.(المبسوط، 14/24، كتاب البيوع، باب بيع الفلوس)
مزید متعلقہ سوالات
- پرانے اور پھٹے نوٹ کم قیمت پر بیچنا یا بدلنا جائز ہے یا نہیں
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم