جواب:-پھٹے پرانے نوٹ جن کو کوئی پوچھتا ھی نہیں ان کی کوئی قدر قیمت نہیں رہتی تو ایسے نوٹوں کو اگر بینک میں جمع کرا کے صحیح اور ان کے متبادل نوٹ مل سکتے ہیں تو ایسے پھٹے پرانے نوٹوں کو فروخت کرنا جائز نہیں لیکن اگر بینک صحیح اور متبادل نوٹ نہ دے تو پھر عرفا ان حیثیت ختم ہونے کی وجہ سے ان نوٹوں کو کمی بیشی کے ساتھ بدلنا جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ لین دین ہاتھ درہاتھ ہو کیونکہ سمیت گھٹ جانے کی وجہ سے سرکاری طور پر بالکلہ لیا نوٹ ختم نہیں ہوتی(فتوی قاسمیہ:٥٨٤/١٩)
📖 فلا يجوزُ مبادلةُ الأوراقِ النقديَّةِ بجنسِها متفاضلةً، ويجوزُ إذا كانت متماثلةً، والمماثلةُ هاهنا أيضًا تكونُ بالقيمةِ لا بالعدد، كما في الفلوس؛ فيجوزُ أن يُباعَ ورقٌ نقديٌّ قيمتُه عشرُ روبياتٍ بعشرةِ أوراقٍ قيمةُ كلِّ واحدةٍ منها روبيَّةٌ واحدةٌ، ولا يجوزُ أن يُباعَ الأوَّلُ بإحدى عشرةَ ورقةً من الثانيةِ. حوالہ: تكملة فتح الملهم، ج 1، ص 590، رقم: 4027، ط: أشرفي
مزید متعلقہ سوالات
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم
- سورۂ ص میں سجدہ اناب پر ہے یا اگلی آیت پر؟