ایک مسجد میں چٹائی اور قالین ضرورت سے زائد ہے کیا مسجد والے ان چٹائی اور قالینوں کو فروخت کر کے مسجد کے دیگر ضروریات میں خرچ کر سکتے ہیں اور خریدار کے لیے اپنے اور اپنے بیوی بچوں کی ضرورت میں استعمال کرنا بلا شبہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:-مسجد کی ضرورت سے زائد چٹائی اور قالین اگر کسی نے دی ہے تو ان کی اجازت سے ان زائد چیزوں کو فروخت کر سکتے ہیں اور اگر مسجد کے پیسوں سے خریدی گئی ہے تو ذمہ داران اس کو دوسرے کو بیچ سکتے ہیں اور حاصل شدہ امدانی کو اسی مسجد کی ضروریات میں صرف کر سکتے ہیں نیز خریدار کے لیے اس کا استعمال بلا شبہ اور بلا تردد جائز ہے کیونکہ خریدار اس کا مالک ہو چکا ہے لہذا اس کا اس میں ہر طرح سے تصرف سے جائز ہے-(مستفاد محمودية:٤٧١/١٤،قاسميه:٢٩٧/١٨)
📖 وما انهدم من بناء الوقف والته صرفه الحاكم في عمارة الوقف إن احتاج إليه وان استغني عنه امسكه حتى يحتاج الى عمارته فيصرف فيها.... وان تعذر اعادة عينه الى موضعه بيع و صرف ثمنه الى المرمة صرفا للبدل الى مصرف المبدل(هدايه: ٦٤٢/٢،اشرفيه ديوبند)
📖 واما فيها اشتراه المتولي من مستغلات الوقف فانه يجوز بيعه وهذا لان في ضروريته وقفا خلافا والمختار انه لا يكون وقتا فللقيم ان يبيعه متى شاء لمصلحة عرضت(فتح القدير: ٢٢٤/٦-٢٢٥،مصر)
مزید متعلقہ سوالات
- عورت دوسری شادی کرے تو جنت میں اسے کون سا شوہر ملے گا؟
- دوسرے کے برے عمل سے بیزاری کی دعا کیا ہے؟
- نام بدلنے سے بیماری دور ہونے کا عقیدہ کیسا ہے؟
- فرض نماز گھر میں تراویح کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟
- سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت کثرت سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک شخص یہ کہ رہا ہے کہ نماز وتر میں دو رکعت کے بعد تشہد احادیث سے ثابت نہیں اور یہ بھی کہ رہا ہے کہ وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو اس طرح آپ کی وتر کی نماز نہیں ہوتی دعاء قنوت کی جگہ فنوت نازلہ پڑھی جائے گی یہ شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر؛رہا ہے برائے مہربانی ہم سب کی صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔