ایک شخص سے سنا ہے کہ عورتیں جب سال گزرنے لگتا ہے تو دوسری عورت کو اپنا مال دی دیتی ہیں یا ان کو اپنے مال کا مالک بنا دیتی ہیں پھر اگلے سال پھر واپس لے لیتی ہیں تو کیا اس پر زکوۃ ہوگی یا نہیں...؟

📖 الجواب وبالله التوفيق: صورتِ مسئولہ میں قانونِ فقہ کی رو سے اگر چہ زکوٰۃ ادا کرنے کا فتویٰ نہیں ہوگا، لیکن زکوٰۃ سے بچنے کے لیے اس طرح کا حیلہ اختیار کرنا غضبِ الٰہی کو دعوت دینا ہے، دنیا میں تو اس قسم کا حیلہ اختیار کرنے سے زکوٰۃ بچ جائے گی لیکن آخرت میں اس پر سخت مؤاخذہ ہوگا۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے نقصان نہیں؛ لہذا پورے اہتمام اور خوش دلی سے زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔

📖 أن ‌كل ‌حيلة ‌يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة. (الفتاوى الهندية/كتاب الحيل/الفصل الأول، ٤٤٣/٦، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

📖 وأما الاحتيال لإبطال حق المسلم فإثم وعدوان. (عمدة القاري/كتاب الحيل/باب في ترك الحيل، ١٠٩/٢٤، ط: دار الفكر)