آمین بالجہر اور آمین بالسر کا اختلاف جائز ہے یا نہیں
لجواب:-یہ اختلاف جواز عدم جواز کا نہیں ہے بلکہ اولی وغیر اولی کا ہے چنانچہ سری نمازوں میں بالاتفاق اہستہ آمین کہنا مسنون ہے البتہ اختلاف صرف جہری نمازوں میں ہے چنانچہ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک زور سے آمین کہنا زیادہ بہتر ہے اور احناف و مالکیہ کے نزدیک اہستہ آمین کہنا زیادہ بہتر ہے-
📖 وإذا قال الإمام: ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ قال: آمين، وقولُها المؤتمَ؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «إذا أمَّن الإمام فأمِّنوا»... ويُخفونها؛ لأنه دعاءٌ، فيكون مبناه على الإخفاء...(الهداية، 1/105، كتاب الصلاة، زمزم، ديوبند)
📖 والثناءُ، والتعوُّذُ، والتسميةُ، والتأمينُ، وكونُهنَّ سرًّا... قال في المنيّة: وإذا قال الإمام: ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ قال: آمين... وكونُهنَّ سرًّا. (رد المحتار على الدر المختار، 2/172، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 فإذا فرغ من الفاتحة يقول: آمين، إمامًا كان أو مقتديًا... ثم السنة فيه المخافتة عندنا، وعند الشافعي الجهر في صلاة الفجر... ولنا: ما رُوي عن وائل بن حجر أن النبي صلى الله عليه وسلم أخفى بالتأمين...(بدائع الصنائع، 1/483، كتاب الصلاة، مكتبة أشرفية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- حادثے میں جسم کے ٹکڑے ہوجانے پر میت کو غسل کیسے دیا جائے؟
- ایک شخص کا معمول ٢٠ رجب کو زکوٰۃ نکالنے کا ہے، اس نے ٢٠ تاریخ کو حساب لگا لیا تھا، ابھی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی ٢٦ رجب تک تک اس کے پاس مزید مال آگیا تو اس مزید مال کی زکوٰۃ بھی اِسی سال ادا کرنی ہوگی؟
- کیا عورت پیتل کی انگوٹھی پہن سکتی ہے؟
- اکیڈمی کے تقابلی مقابلے میں 100 روپے جمع کرانے کا حکم کیا ہے؟
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟