الجواب:-صورت مسئولہ میں عورت کا اس طرح سفر کرنا جائز اور درست ہے اس لیے کہ دونوں طرف کے ایر پورٹ تک یہ محروم کے ساتھ ہوا ہے صرف درمیان میں ہوائی جہاز کا سفر بلا محروم کے ہوا ہے اور جہاز کے اندر کسی فتنہ کا اندیشہ نہیں ہے-
📖 فقال مالك: تخرج مع جماعة النساء، وقال الشافعي: تخرج مع ثقةٍ حُرَّةٍ مسلمةٍ، وقال ابن سيرين: تخرج مع رجلٍ من المسلمين، وقال الأوزاعي: تخرج مع قومٍ عدولٍ.(إعلاء السنن، 10/14)
📖 إنَّ المحرمَ ليس بشرطٍ في الحجِّ الواجب. قال الأثرم: سمعت أحمد يُسأل: هل يكون الرجلُ محرمًا لأمِّ امرأته، يخرجها إلى الحج؟ فقال: أمّا في حجّة الفريضة فأرجو؛ لأنها تخرج إليها مع النساء ومع كلِّ أَمْنَةٍ، وأمّا في غيرها فلا. وقال مالك والشافعي: ليس المحرم شرطًا في حجِّها.(أوجز المسالك إلى موطأ مالك، 8/648، ط: بيروت)
📖 قال حماد: لا بأس للمرأة أن تسافر بغير محرم مع الصالحين. (الفتاوى الهندية، 5/423، مكتبة أشرفية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- پرانے اور پھٹے نوٹ کم قیمت پر بیچنا یا بدلنا جائز ہے یا نہیں
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم